عام انسانوں سے three گنا بڑے سر والی 29 سالہ خاتون جو بظاہر چھوٹی بچی لگتی ہیں

333

فوٹو: ڈیلی میل

عام انسانوں سے three گنا بڑے سر والی برازیل سے تعلق رکھنے والی 29 سالہ خاتون جو بظاہر چھوٹی بچی لگتی ہیں ،دیکھنے بولنے اور چلنے سے قاصر ہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 29 سالہ خاتون کا سر ایک غیر معمولی حالت کی وجہ سے بظاہر عام انسانوں سے تقریباً تین گنا بڑھ گیا  جبکہ ان کی نہ صرف جسمانی نشونما رک گئی بلکہ وہ بولنے ،دیکھنے اور چلنے پھرنے سے بھی محروم  ہیں۔

یہ کہانی برازیل سے تعلق رکھنے والی 29 سال کی گریزیلی ایلوس(Graziely Alves) کی ہے جو برسوں سے بستر پر پڑی ہیں اور بات کرنے سے قاصر ہیں جبکہ  حال ہی میں ان کا سر بڑھنے کی وجہ سے وہ اپنی بینائی بھی کھو چکی ہے۔

گریزیلی ایلوس کی تصاویر کو دیکھ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ 29 سالہ خاتون ہیں، بلکہ تصاویر کو دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ یہ کوئی چھوٹی بچی ہیں۔

گریزیلی ایلوس کی تصاویر کو دیکھ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ 29 سالہ خاتون ہیں، بلکہ تصاویر کو دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ یہ کوئی چھوٹی بچی ہیں۔—فوٹو: ڈیلی میل
گریزیلی ایلوس کی تصاویر کو دیکھ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ 29 سالہ خاتون ہیں، بلکہ تصاویر کو دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ یہ کوئی چھوٹی بچی ہیں۔—فوٹو: ڈیلی میل

رپورٹس کے مطابق گریزیلی ایلوس کی یہ آزمائش ان کی پیدائش سے پہلے ہی اس وقت شروع ہو گئی تھی جب دوران حمل بچہ دانی میں ان کے دماغ کے اردگرد نیورو لوجیکل ڈس آرڈر(ہائیڈروسیفالس)  بنناشروع ہوگیا تھا۔

اس نیورولوجیکل ڈس آرڈر کے  نتیجے میں دماغ کے  اندرونی ٹشوز کو نقصان پہنچتا ہے اور اسی وجہ سے سرکی شکل  بگڑ جاتی ہے اور کئی بار جسمانی نشونما بھی رُک جاتی ہے۔ یہ جان لیوا بھی ہو سکتا ہے کیوں کہ یہ دماغ کے ان حصوں کو نقصان پہنچاتا ہے جس کی مدد سے  دل اور پھیپھڑے کام کرتے ہیں۔

گریزیلی کی 48  ماں بیٹی کی ہر لحاظ سے دیکھ بھال کرتی ہیں،ان کے پیمپرز تبدیل کرنے سے لے کر ان کے فیڈر تک وہ ہر چیز کا خیال رکھتی ہیں،  ان کا کہنا ہے کہ میری کوشش ہے کہ میں آئندہ کئی سالوں تک اپنی بیٹی کو اسی طرح پیار کرتی رہوں۔

والدہ کا کہنا ہے کہ جب میں eight ماہ کی حاملہ تھی تو مجھے اسی وقت احساس ہوگیا تھا کہ کچھ گربڑ ہے کیوں کہ انہیں اس وقت شدید درد کا سامنا تھا، تاہم الٹراساؤنڈ سے یہ بات سامنے آئی کہ میری  نوزائیدہ بیٹی کو (ہائیڈروسیفالس) ہے، جو ہر 500 میں سے ایک بچے کو متاثر کرتا ہے۔

فوٹو: ڈیلی میل
فوٹو: ڈیلی میل

گریزیلی ایلوس کی والدہ نے بتایا کہ ڈاکٹروں نےکہا تھا کہ اس  ڈس آرڈر کی وجہ سے بیٹی صرف تین ماہ تک زندہ رہے گی، جب بیٹی کی پیدائش ہوئی تو اس کے سر کے سائز کی وجہ سے  اسے غیر معمولی کہا گیا، بیٹی کا سر وقت کے ساتھ اور بھی بڑا ہوتا گیا جبکہ جسمانی نشونما رُک گئی۔

 والدہ نے کہا کہ گریزیلی نے طبی ماہرین کے تمام اندازوں کا غلط ثابت کردیا، جو بیٹی ڈاکٹروں کے مطابق صرف three ماہ زندہ رہنے والی تھی وہ اگلے مہینے اپنی 30 ویں سالگرہ منائے گی۔

ہائیڈروسیفالس کا علاج عام طور پر سرجری سے کیا جا سکتا ہے، گریزیلی کی والدہ کا دعویٰ ہے کہ بیٹی  کی پیدائش سے پہلے یا اس کے فوراً بعد کوئی سرجری نہیں کی گئی۔

فوٹو: ڈیلی میل
فوٹو: ڈیلی میل

رپورٹس کے مطابق اگراس کا علاج نہ کیا جائے تو ہائیڈروسیفالس کے شکار تقریباً 50 فیصد بچوں کی تین سال کی عمر سے پہلے ہی موت ہوجاتی ہے  جبکہ پانچ میں سے صرف ایک بچہ بالغ ہونے تک زندہ رہتا ہے، گریزیلی ایلوس خوش قسمت ہیں کہ وہ ابھی تک سانسیں لے رہی ہیں۔ 

گریزیلی ایلوس کی والدہ کا کہنا ہے جب لوگ میری بیٹی کو بڑے سر والی کہتے ہیں تو مجھے دکھ ہوتا ہے لیکن میں کبھی امید نہیں ہارتی کیونکہ میں ہمیشہ خدا پر بھروسہ کرتی ہوں۔

رپورٹس کے مطابق حکومت کی جانب سے گریزیلی ایلوس کی دیکھ بھال کے لیے والدین کو خصوصی معاوضہ بھی ملتا ہے۔

Supply hyperlink